*ملک کے دستور کے تحفظ کے لیے پریشر گروپ کے قیا م کی تجویز،*
*جمعیت علماء ہند کے تعاون سے ’ملک دو راہے پر ۔آگے کا راستہ ‘پر مباحثہ کا انعقاد*
حیدرآباد: ( عظیم اللہ صدیقی بشکریہ جمعیۃ دفتر حیدرآباد )یکم اپریل ۲۰۱۸ ء
*آئین کی حکمرانی کے مقابل ایک مخصو ص طبقے کو فوقیت دینے کے پس منظر میں پیدا شدہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے اہم سیاسی و سماجی رہ نماؤں نے حیدرآباد میں منعقد ایک کنونشنن میں ایک مشترکہ پریشر گروپ کے قیام کی تجویز کو منظوری دے دی ۔ اس کنونشن کے روح رواں مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند تھے ۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی اور بنگلور میں اس مسئلہ سے متعلق کنونشن منعقد ہو چکا ہے جس میں بھی موجوہ سیاسی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت کے لوگوں کو بیدار کرنے پر زور دیا گیا تھا*
ہفتہ کو ہوٹل انمول کنٹینتل حید رآبا د میں منعقد سماج کے مختلف طبقات ‘ پسماند ہ ذاتوں ‘ سماجی گروپس کے درانشوران نے ’ ریاستی جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش کے زیر اہتمام منعقد کنونشن بعنوان ،ملک دوراہے پر ۔ آگے کا راستہ ‘ پر مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دستور کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہی تمام پسماندہ طبقات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
دستور ساز بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر نے اس بات کرتے ہوئے اس موقع پر کہا کہ ملک میں تحفظِ دستور کے لئے بڑے پیمانے پر مشمولاتی پروگرام منعقد کئے جانے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ماحول بنانا چاہئے جس سے سیکولر ذہن رکھنے والو ں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے اور وہ اس تحریک کا حصہ بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کرپٹ ہونے کے باوجود اس کی شبیہہ ابھی بھی بدعنوان نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ مالیاتی گھوٹالے مودی حکومت کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہے۔
مولانا محمود مدنی جنر ل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے اس موقع پر کہا کہ اس وقت ملک میں لڑائی دستور کے محافظ اور دستور کے مخالف کے درمیان ہے-
مسلماں کسی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ہماری لڑائی بکھراو، فرقہ پرستی اور سماجی دوری کے خلاف ہے. آج کی میٹنگ میں اسی تناظر میں طے ہوا ہے کہ ایک ایسا گروپ بنایا جائے جو ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ او بی سی ‘ دلتوں اور مسلمانوں کے درمیان رابطہ کا کام کرے گا اور اس کے لئے ایک علحدہ میٹنگ جلد ہی منعقد ہوگی۔
لنگایت طبقہ کے لیڈر بسوا راج پٹہ داریامہا سوامی نے اس موقع پر کہا کہ یہ بڑے رنج کی بات ہے کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں مضبوط ہورہی ہیں اور اقتدار پر قابض ہیں۔ انہوں نے تاہم امید ظاہر کی کہ ملک کو توڑنا آسان نہیں ہے اور دستور کی وساطت سے ملک میں تمام طبقات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔
جماعت اسلامی تلنگانہ کے صدر حامد محمد خان نے کہا کہ ملک میں مالیاتی نظام ‘ تعلیمی نظام ‘ نظام عدلیہ اور دیگر جمہوری ادارے کمزور ہوگئے ہیں۔ حکومت فاشسٹ نظریہ کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرتے ہوئے بینکوں میں جمع ان کی پونجی ہڑپنے کے کام میں لگی ہوئی ہے۔ دستور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور اس کا تحفظ وقت کا تقاضہ ہے۔
معروف سماجی جہد کار غدر نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ طاقتیں کسی بھی جمہوری نظریہ کی دشمن ہیں او رملک کی برہمن وادی فاشسٹ طاقتیں ان سے مل کر ملک میں ایک مصنوعی سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن ان طاقتوں کو شکست دینے کے لئے پسماندہ طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وقتی اتحاد نہیں بلکہ بیلٹ باکس پر بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔
پروفیسر کانچہ ایلیا نے اس موقع پر کہا کہ پسماندہ طبقات کو طویل مدتی اور مختصر مدتی منصوبوں پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر دلتوں اور پسماندہ طبقات کو اقلیتوں کے خلاف بھڑکاتے ہوئے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اقلیتو ں اور دیگر طبقات کے درمیان میل جول کو بڑھانا ضروری ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ ہندووں کی اکثریت امن پسند ہے اور صرف چند افراد ہی ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لئے اقلیتی تعلیمی اداروں میں تاریخ کے نصاب کو ترتیب دینے کی ضرور ت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقتی اتحاد کے علاوہ طویل مدتی اتحاد ضروری ہے۔
سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے سکرٹری ظفر جاوید نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی آزادی کے ستر سال بعد بھی دلتوں کے ساتھ ظلم کا رویہ روا رکھا گیا ہے اور اقلیتوں کے ساتھ بھی ملک میں شدید نا انصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے بہار میں ہور ہے فرقہ وارانہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بند سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ 40یا 50فیصد آبادی کو پیچھے چھوڑ کر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیت العلما تلنگانہ و اے پی نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں زمینی سطح پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ دلتوں اور پسماندہ طبقات سے اقلیتوں کے تعلقات کو مزید گہرا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں امبیڈکر جینتی کے موقع پر جمعیت کے افراد دلتوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ رہیں گے۔
پروفیسر پی ایل وشویشور نے اس موقع پر کہا کہ بی جے پی اور آرایس ایس دوراہے پر نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر اقوام پریشان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہندتو ا طاقتیں دستور کی ذرا سی بھی پروا نہیں کرتیں اور انہیں جمہوریت کے کسی بھی ادارے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ایک رابطہ کمیٹی کے قیام کی ضرورت ہے۔
پیپلز پارٹی آف انڈیا کی نائب صدر منیشا بھنگر نے کہا کہ صرف چند فیصد افراد پر مشتمل گروپ آج ملک کے 90فیصد اعلی عہدوں اور وسائل پر قابض ہے۔ پروفیسر ونود کمار ‘ جی شنکر ‘ تیجاوت بالیا نائک ‘ کاکی مادھو راواور دیگر نے زور دیا کہ اقلیتوں ‘ دلتوں اور پسماندہ طبقات کا اتحا د اشد ضروری ہے۔ اجلاس کی کاروائی حافط پیر خلیق احمد صا بر جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندا پر دیش نے چلا ئی ‘ اس اجلاس میں جمعیت العلما مہاراشٹر صدر حافظ ندیم صدیقی صا حب ‘ جمعیت علماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار صا حب ‘ سید احمد خطیب جنرل سکریٹری جمعیت علماء تامل ناڈو اور شہر حیدرآباد کے معزز احباب خصو صاً محترم جناب ظہیر علی خان روز نامہ سیاست ،جناب خسرو ،مولانا عبدالقوی کے علاوہ ریاتلنگانہ و آندھراپردیش کے اضلاع کے صدور و ذمہ داران نے شر کت کی ۔
*جمعیت علماء ہند کے تعاون سے ’ملک دو راہے پر ۔آگے کا راستہ ‘پر مباحثہ کا انعقاد*
حیدرآباد: ( عظیم اللہ صدیقی بشکریہ جمعیۃ دفتر حیدرآباد )یکم اپریل ۲۰۱۸ ء
*آئین کی حکمرانی کے مقابل ایک مخصو ص طبقے کو فوقیت دینے کے پس منظر میں پیدا شدہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے اہم سیاسی و سماجی رہ نماؤں نے حیدرآباد میں منعقد ایک کنونشنن میں ایک مشترکہ پریشر گروپ کے قیام کی تجویز کو منظوری دے دی ۔ اس کنونشن کے روح رواں مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند تھے ۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی اور بنگلور میں اس مسئلہ سے متعلق کنونشن منعقد ہو چکا ہے جس میں بھی موجوہ سیاسی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت کے لوگوں کو بیدار کرنے پر زور دیا گیا تھا*
ہفتہ کو ہوٹل انمول کنٹینتل حید رآبا د میں منعقد سماج کے مختلف طبقات ‘ پسماند ہ ذاتوں ‘ سماجی گروپس کے درانشوران نے ’ ریاستی جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش کے زیر اہتمام منعقد کنونشن بعنوان ،ملک دوراہے پر ۔ آگے کا راستہ ‘ پر مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دستور کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہی تمام پسماندہ طبقات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
دستور ساز بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر نے اس بات کرتے ہوئے اس موقع پر کہا کہ ملک میں تحفظِ دستور کے لئے بڑے پیمانے پر مشمولاتی پروگرام منعقد کئے جانے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ماحول بنانا چاہئے جس سے سیکولر ذہن رکھنے والو ں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے اور وہ اس تحریک کا حصہ بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کرپٹ ہونے کے باوجود اس کی شبیہہ ابھی بھی بدعنوان نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ مالیاتی گھوٹالے مودی حکومت کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہے۔
مولانا محمود مدنی جنر ل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے اس موقع پر کہا کہ اس وقت ملک میں لڑائی دستور کے محافظ اور دستور کے مخالف کے درمیان ہے-
مسلماں کسی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ہماری لڑائی بکھراو، فرقہ پرستی اور سماجی دوری کے خلاف ہے. آج کی میٹنگ میں اسی تناظر میں طے ہوا ہے کہ ایک ایسا گروپ بنایا جائے جو ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ او بی سی ‘ دلتوں اور مسلمانوں کے درمیان رابطہ کا کام کرے گا اور اس کے لئے ایک علحدہ میٹنگ جلد ہی منعقد ہوگی۔
لنگایت طبقہ کے لیڈر بسوا راج پٹہ داریامہا سوامی نے اس موقع پر کہا کہ یہ بڑے رنج کی بات ہے کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں مضبوط ہورہی ہیں اور اقتدار پر قابض ہیں۔ انہوں نے تاہم امید ظاہر کی کہ ملک کو توڑنا آسان نہیں ہے اور دستور کی وساطت سے ملک میں تمام طبقات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔
جماعت اسلامی تلنگانہ کے صدر حامد محمد خان نے کہا کہ ملک میں مالیاتی نظام ‘ تعلیمی نظام ‘ نظام عدلیہ اور دیگر جمہوری ادارے کمزور ہوگئے ہیں۔ حکومت فاشسٹ نظریہ کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرتے ہوئے بینکوں میں جمع ان کی پونجی ہڑپنے کے کام میں لگی ہوئی ہے۔ دستور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور اس کا تحفظ وقت کا تقاضہ ہے۔
معروف سماجی جہد کار غدر نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ طاقتیں کسی بھی جمہوری نظریہ کی دشمن ہیں او رملک کی برہمن وادی فاشسٹ طاقتیں ان سے مل کر ملک میں ایک مصنوعی سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن ان طاقتوں کو شکست دینے کے لئے پسماندہ طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وقتی اتحاد نہیں بلکہ بیلٹ باکس پر بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔
پروفیسر کانچہ ایلیا نے اس موقع پر کہا کہ پسماندہ طبقات کو طویل مدتی اور مختصر مدتی منصوبوں پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر دلتوں اور پسماندہ طبقات کو اقلیتوں کے خلاف بھڑکاتے ہوئے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اقلیتو ں اور دیگر طبقات کے درمیان میل جول کو بڑھانا ضروری ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ ہندووں کی اکثریت امن پسند ہے اور صرف چند افراد ہی ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لئے اقلیتی تعلیمی اداروں میں تاریخ کے نصاب کو ترتیب دینے کی ضرور ت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقتی اتحاد کے علاوہ طویل مدتی اتحاد ضروری ہے۔
سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے سکرٹری ظفر جاوید نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی آزادی کے ستر سال بعد بھی دلتوں کے ساتھ ظلم کا رویہ روا رکھا گیا ہے اور اقلیتوں کے ساتھ بھی ملک میں شدید نا انصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے بہار میں ہور ہے فرقہ وارانہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بند سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ 40یا 50فیصد آبادی کو پیچھے چھوڑ کر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیت العلما تلنگانہ و اے پی نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں زمینی سطح پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ دلتوں اور پسماندہ طبقات سے اقلیتوں کے تعلقات کو مزید گہرا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں امبیڈکر جینتی کے موقع پر جمعیت کے افراد دلتوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ رہیں گے۔
پروفیسر پی ایل وشویشور نے اس موقع پر کہا کہ بی جے پی اور آرایس ایس دوراہے پر نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر اقوام پریشان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہندتو ا طاقتیں دستور کی ذرا سی بھی پروا نہیں کرتیں اور انہیں جمہوریت کے کسی بھی ادارے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ایک رابطہ کمیٹی کے قیام کی ضرورت ہے۔
پیپلز پارٹی آف انڈیا کی نائب صدر منیشا بھنگر نے کہا کہ صرف چند فیصد افراد پر مشتمل گروپ آج ملک کے 90فیصد اعلی عہدوں اور وسائل پر قابض ہے۔ پروفیسر ونود کمار ‘ جی شنکر ‘ تیجاوت بالیا نائک ‘ کاکی مادھو راواور دیگر نے زور دیا کہ اقلیتوں ‘ دلتوں اور پسماندہ طبقات کا اتحا د اشد ضروری ہے۔ اجلاس کی کاروائی حافط پیر خلیق احمد صا بر جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندا پر دیش نے چلا ئی ‘ اس اجلاس میں جمعیت العلما مہاراشٹر صدر حافظ ندیم صدیقی صا حب ‘ جمعیت علماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار صا حب ‘ سید احمد خطیب جنرل سکریٹری جمعیت علماء تامل ناڈو اور شہر حیدرآباد کے معزز احباب خصو صاً محترم جناب ظہیر علی خان روز نامہ سیاست ،جناب خسرو ،مولانا عبدالقوی کے علاوہ ریاتلنگانہ و آندھراپردیش کے اضلاع کے صدور و ذمہ داران نے شر کت کی ۔